Posts

Showing posts from May, 2024

جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتی اردو کہانی

جھوٹ: سلمان یوسف سمیجہ: وہاب صاحب ! اپنے بیٹے ابوذر کو لینے کیلئے میدان میں پہنچے تو دیکھا کہ وہ اپنے کلاس فیلو اور دوست توصیف سے گپ شپ میں مصروف ہے۔ ”ارے ابوذر ! تم کل سکول کیوں نہیں آئے؟“ توصیف نے باتوں باتوں میں پوچھ لیا۔ ”وہ ․․․․․ وہ دراصل !“ ابوذر سے کوئی جواب نہ بن پارہا تھا۔” ہاں وہ بات یہ ہے کہ کل مجھے سردرد تھا اور معمولی بخار بھی، جس کی وجہ سے میں سکول حاضر نہ ہوسکا‘ آج کچھ صحت بہتر ہے“ ابوذر نے جھوٹ بول دیا۔وہاب صاحب کو دکھ ہوا وہ افسوس کرنے لگے کہ اُن کا بیٹا جھوٹ بولتا ہے ۔ ابوذر اور توصیف باتوں میں مشغول تھے ، انہیں یہ خبر نہ تھی کہ وہاب صاحب اُن دونوں کی گفتگو سن رہے ہیں۔ (جاری ہے) ” ابو ذر ! تمہارے ابو آئے ہیں۔“توصیف نے وہاب صاحب کو دیکھ لیا تھا۔ ابوذر کوسامنے پاکر بوکھلا گیا۔ ”چلو بیٹابیٹے! شام ہوگئی گھر چلو“ وہاب صاحب بظاہر تو مسکرا کر بولے لیکن اندر ہی اندر وہ افسوس کررہے تھے اور بہت دکھی بھی تھے۔ ”جی ابو! یہ کہہ کر ابوذر انکے ساتھ چل دیا۔ ”تم نے توصیف سے جھوٹ کیوں کہا کہ تمہیں بخار تھا جبکہ تم نے تو ایسے ہی چھٹی کرلی تھی۔“ راستے میں وہاب صاحب نے اُس سے پوچھا”وہ وہ ا...

نصیحت کا اثر اردو کہانی

عظمی گل: پیارے بچو! پہلے وقتوں میں کسی کو کوئی بھی حاجت درپیش ہوتی یا کوئی مشکل ہوتی تو وہ حاجب مند کوئی کام کرنے سے پہلے مشورہ لینے کیلئے کسی بزرگ کے پاس ضرور جاتا تھا۔ اِسی طرح ایک غریب اپنی غربت کی شکایت لے کر حضرت شیخ سعدی کے پاس گیا اور کہنے لگا کہ میرے بچے زیادہ ہیں اور میری آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ اب مجھ میں فاقہ کی ہمت نہیں رہی، کئی مرتبہ خیال کرتا ہوں کہ یہاں سے کہیں اور چلا جاؤں مگر یہاں سے چلا گیا تو میرے بعد یہ لوگ مجھ پرطعنہ زنی کریں گے کہ اپنی اولاد کے متعلق یہ کتنا بے مروت نکلا کہ اپنی سہولت اور آرام کیلئے اپنے بیوی بچوں کو تنگدستی میں چھوڑ کر چلا گیاہے۔ آپ ہی کوئی مشورہ دیں آپ تو علمِ حساب کے ماہر ہیں ، مجھے کسی بادشاہ کی نوکری میں دے دیں آپکا احسان ہوگا۔ (جاری ہے) حضرت شیخ سعدی نے اُس سے کہا کہ بادشاہ کی نوکری کے دورخ ہوتے ہیں اول رزق کی امید اور دوم جان کا خطرہ عقل مندوں کی رائے کے مطابق رزق کی اُمید پر جان کو خطرے میں نہ ڈالو۔ اُس شخص نے کہا: اے شیخ! یہ میرے سوال کا جواب نہیں ، آپکو میرے دکھوں کا اندازہ نہیں ہے جب میں خیانت نہیں کروں گا تو بادشاہ کیوں مجھ پر غصہ...

چھوٹی دنیا بھی متاثر اردو کہانی

محمد ریاض اختر اللہ کریم کورونا وائرس کے برے اثرات سے ہم سب کو محفوظ رکھے اور جو جو وائرس سے متاثر ہو کر زیر علاج ہیں ‘رب کائنات انہیں جلد از جلد صحت کی نصیحتیں اور شفاء کے موتی عطا کرے ‘آمین۔ پوری دنیا اس موذی مرض اور اس کے پھیلاؤ سے پریشان ہے اس پریشانی سے بچنے کے لئے لوگوں کو گھروں میں محدود رہنے کی ہدایات کی جارہی ہیں۔ مارکٹیں ‘بازار اور کاروبار کی بندش سے گھر اور گھر والے اپنے اپنے گھروں میں ”محصور“ ہیں۔ تعلیمی اداروں میں تعطیلات ہیں اور یہ تعطیلات 31مئی تک بڑھا دی گئی ہیں اس کا مطلب یہ ہوا کہ بچے سکول ، ٹیوشن ، اور اکیڈمی سے ذرا دور ہیں لہٰذا گھروں میں کھیل اور شرارتوں کے جو طوفان اٹھائے جارہے ہیں اس کا ہم سب کو اندازہ ہے حکومت ،معاشرے اور بڑوں کو سب سے زیادہ فکر بچوں کی ہے وہ چاہتے ہیں کہ بچے کورونا وائرس کی اس وباء سے دور اور محفوظ رہیں۔ (جاری ہے) مرض سے بچنے کے لئے گلوز ماسک اور سینی ٹائزر کے استعمال کی بار بار ہدایت کی جارہی ہے ماسک اور گلوز سے تو بڑے اور بچے مانوس تھے تاہم ہینڈ سینی ٹائزر کی سوسائٹی میں اس قدر وسیع پیمانے پر انٹری حیران کن ہے ۔مرض سے بچنے کا سب سے آسان سبق ی...

اپنے پاؤں پر

Image
نذیر انبالوی چچا جان اپنے بھتیجے عمر سے بہت محبت کرتے تھے۔اپنی لائبریری کی چابیاں وہ عمر کے ہی حوالے کیا کرتے تھے۔ایک دن وہ شہر سے باہر گئے ہوئے تھے۔عمر لائبریری سے کوئی کتاب لے کر اُتر رہا تھا۔بارش بند ہو چکی تھی،لیکن سیڑھیوں پر پھسلن تھی،جس سے اس کا پاؤں پھسل گیا۔وہ اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکا۔سیڑھیوں سے گرتے ہوئے عمر نے چیخ ماری۔ امی جان اور آپی دوڑی آئیں۔ ”ہائے میری ٹانگ،مجھ سے چلا نہیں جا رہا،ہائے میری ٹانگ۔“عمر کا ہاتھ دائیں ٹانگ پر تھا۔ آپی کے فون کرتے ہی ریسکیو والے آ گئے۔ڈاکٹر صاحب نے ایکسرے دیکھ کر بتایا کہ ٹانگ دو جگہ سے ٹوٹ گئی ہے،اب سوائے آپریشن کے کوئی راستہ نہیں ہے۔کچھ دیر بعد ابا جان بھی آ گئے۔ چچا جان کو اطلاع ملی تو وہ بھی سب کچھ چھوڑ کر بذریعہ جہاز آ گئے۔ جب انھیں معلوم ہوا کہ آپریشن کرنا پڑے گا تو چچا جان نے کہا:”اگر ڈاکٹر کا یہ مشورہ ہے تو دیر مت کیجیے،میں تین چار گھنٹے میں آ جاؤں گا۔“ چچا جان جب اسپتال پہنچے تو عمر کو آپریشن تھیٹر سے باہر لایا جا چکا تھا۔انھوں نے کہا:”یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے۔“ چچا جان کی بات سن کر عمر کے ابو جان نے کہا:”تم ایسا کیوں سوچتے ہو...