جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتی اردو کہانی
جھوٹ: سلمان یوسف سمیجہ: وہاب صاحب ! اپنے بیٹے ابوذر کو لینے کیلئے میدان میں پہنچے تو دیکھا کہ وہ اپنے کلاس فیلو اور دوست توصیف سے گپ شپ میں مصروف ہے۔ ”ارے ابوذر ! تم کل سکول کیوں نہیں آئے؟“ توصیف نے باتوں باتوں میں پوچھ لیا۔ ”وہ ․․․․․ وہ دراصل !“ ابوذر سے کوئی جواب نہ بن پارہا تھا۔” ہاں وہ بات یہ ہے کہ کل مجھے سردرد تھا اور معمولی بخار بھی، جس کی وجہ سے میں سکول حاضر نہ ہوسکا‘ آج کچھ صحت بہتر ہے“ ابوذر نے جھوٹ بول دیا۔وہاب صاحب کو دکھ ہوا وہ افسوس کرنے لگے کہ اُن کا بیٹا جھوٹ بولتا ہے ۔ ابوذر اور توصیف باتوں میں مشغول تھے ، انہیں یہ خبر نہ تھی کہ وہاب صاحب اُن دونوں کی گفتگو سن رہے ہیں۔ (جاری ہے) ” ابو ذر ! تمہارے ابو آئے ہیں۔“توصیف نے وہاب صاحب کو دیکھ لیا تھا۔ ابوذر کوسامنے پاکر بوکھلا گیا۔ ”چلو بیٹابیٹے! شام ہوگئی گھر چلو“ وہاب صاحب بظاہر تو مسکرا کر بولے لیکن اندر ہی اندر وہ افسوس کررہے تھے اور بہت دکھی بھی تھے۔ ”جی ابو! یہ کہہ کر ابوذر انکے ساتھ چل دیا۔ ”تم نے توصیف سے جھوٹ کیوں کہا کہ تمہیں بخار تھا جبکہ تم نے تو ایسے ہی چھٹی کرلی تھی۔“ راستے میں وہاب صاحب نے اُس سے پوچھا”وہ وہ ا...