Posts

Showing posts from June, 2024

بے چارہ لکڑ ہارا

 کسی گاؤں میں ایک لکڑ ہارا رہتا تھا ۔جنگل بھی گاؤں کے قریب ہی تھا ۔وہ دن بھر جنگل سے لکڑیاں کا ٹتا اور انھیں بیچ کر اپنی روزی کماتا۔اس کے دن سکون سے گزر رہے تھے ۔ایک دن وہ جنگل میں لکڑیاں کاٹنے گیا۔اس کی نظر ایک درخت پر پڑی ۔درخت خشک ہو چکا تھا ۔ چناں چہ وہ اپنے کلہاڑے سے اس درخت کو کاٹنے لگا۔ابھی اس نے درخت پر پہلی ہی ضرب لگائی تھی کہ اچانک درخت سے ایک بھیانک چیخ کی آواز آئی ۔لکڑہارا ڈرکر پیچھے ہٹ گیا۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس کے سامنے درخت میں سے ایک جن نمودار ہوا۔ اس کی شکل اتنی خوف ناک تھی کہ اس کو دیکھ کر لکڑ ہارے کی چیخ نکل گئی ۔اس کی لال لال آنکھیں انگاروں کی طرح بھڑک رہی تھیں ۔ اس کے کندھے پر ایک چوٹ کا نشان تھا ،جس میں سے ایک عجیب سا مادہ نکل رہا تھا،جو شاید اس جن کا خون تھا ۔ (جاری ہے) جن لکڑ ہارے کو دیکھ کر خوف ناک آواز میں بولا:”اے نادان انسان! یہ تُو نے کیا کردیا؟میں برسوں سے اس درخت میں سورہا تھا ۔آج تیری وجہ سے میری نیند ٹوٹ گئی ۔تیرے کلہاڑے سے میں زخمی بھی ہو گیا ہوں ،اب میں تجھے نہیں چھوڑوں گا۔ “ جن کی آواز ایسی تھی جیسے بادل آپس میں ٹکرارہے ہوں ۔ ”مم․․․․․․مجھے معاف...

نادان چٹرا اردو کہانی

 عاصمہ فرحین،کراچی کسی جنگل میں خوبصورت رنگوں والی چڑیا اور چڑا اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ رہتے تھے۔ایک دن جنگل میں شہر سے بہت سے شکاری آئے اور انھوں نے بہت سارے جال لگائے۔بدقسمتی سے چڑیا کا ایک بچہ اس میں پھنس گیا۔چڑیا اور چڑا بہت پریشان ہوئے۔روئے،چلائے،مگر شکاریوں نے چڑے کو نہ چھوڑا اور وہ اسے لے کر شہر چلے گئے۔ دن یوں ہی گزرتے گئے۔چڑیا اور چڑے کے بچے بڑے ہوتے گئے اور انھوں نے اپنے اپنے گھونسلے بنا لیے۔ایک دن چڑیا گھونسلے کے پاس ٹہنی پر بیٹھی ہوئی تھی کہ اتنے میں ایک پیارا سا چڑا اُڑتا ہوا آیا۔کافی دیر گزرنے کے بعد بھی جب چڑیا اس کو پہچان نہ سکی تو چڑا بولا:”پیاری امی جان!میں آپ کا وہی بیٹا ہوں،جسے شکاری جال میں پکڑ کر لے گئے تھے۔   “ یہ سن کر چڑیا بہت خوش ہوئی۔چڑا بھی جب شام کو لوٹا تو اپنے ننھے چڑے کو دیکھ کر بہت حیران ہوا۔چڑیا اور چڑے نے اسے اپنے چھوٹے سے گھونسلے میں رہنے کی دعوت دی،تاکہ وہ کچھ دن ان کے پاس آرام سے رہ لے اور پھر اپنے دوسرے بہن بھائیوں کی طرح گھونسلہ بنا لے۔ کچھ دن تک تو ننھا چڑا اپنے ماں باپ کے ساتھ کھانے کی تلاش میں جاتا رہا،مگر پھر وہ اُکتا گیا۔...