بے چارہ لکڑ ہارا
کسی گاؤں میں ایک لکڑ ہارا رہتا تھا ۔جنگل بھی گاؤں کے قریب ہی تھا ۔وہ دن بھر جنگل سے لکڑیاں کا ٹتا اور انھیں بیچ کر اپنی روزی کماتا۔اس کے دن سکون سے گزر رہے تھے ۔ایک دن وہ جنگل میں لکڑیاں کاٹنے گیا۔اس کی نظر ایک درخت پر پڑی ۔درخت خشک ہو چکا تھا ۔ چناں چہ وہ اپنے کلہاڑے سے اس درخت کو کاٹنے لگا۔ابھی اس نے درخت پر پہلی ہی ضرب لگائی تھی کہ اچانک درخت سے ایک بھیانک چیخ کی آواز آئی ۔لکڑہارا ڈرکر پیچھے ہٹ گیا۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس کے سامنے درخت میں سے ایک جن نمودار ہوا۔ اس کی شکل اتنی خوف ناک تھی کہ اس کو دیکھ کر لکڑ ہارے کی چیخ نکل گئی ۔اس کی لال لال آنکھیں انگاروں کی طرح بھڑک رہی تھیں ۔ اس کے کندھے پر ایک چوٹ کا نشان تھا ،جس میں سے ایک عجیب سا مادہ نکل رہا تھا،جو شاید اس جن کا خون تھا ۔ (جاری ہے) جن لکڑ ہارے کو دیکھ کر خوف ناک آواز میں بولا:”اے نادان انسان! یہ تُو نے کیا کردیا؟میں برسوں سے اس درخت میں سورہا تھا ۔آج تیری وجہ سے میری نیند ٹوٹ گئی ۔تیرے کلہاڑے سے میں زخمی بھی ہو گیا ہوں ،اب میں تجھے نہیں چھوڑوں گا۔ “ جن کی آواز ایسی تھی جیسے بادل آپس میں ٹکرارہے ہوں ۔ ”مم․․․․․․مجھے معاف...